Assets Declaration Ordinance, 2019 (Urdu text), as published 2019
This is the Assets Declaration Ordinance, 2019 (Urdu text), as published by the Federal Board of Revenue in 2019. It runs to 11 pages.
Transcribed from page images. This document had no text layer, so its 11 pages were read and transcribed from the scanned images. Check figures, dates and tables against the official PDF before relying on them.
What this document is
The Federal Board of Revenue publishes this document in its Assets Declaration Ordinance, 2019 collection. It is reproduced here as printed in the source file, without later amendments folded in.
The source file states no date, so the year above is when the Federal Board of Revenue published the file. Treat it as approximate.
The source file
| File name | Assets Declaration Ordinance, 2019 - Urdu Version.pdf |
| Pages | 11 |
| Size | 1.13 MB |
| Text extraction | Transcribed from page images |
| Extraction confidence | medium |
| Position in this collection | 2 of 2 |
SHA-256 of the source PDF:
b662da4907701097ad01998f1ef1e7d0fc7c7d0ba8fc0dcbbf0ed554601d68d4
Checking that value against the file you download confirms it is the same document these figures came from.
A note on these figures
Counts here are produced by software reading the PDF, not compiled by hand. The same method is applied to every document, which makes comparisons between versions meaningful, but a section with unusual formatting can be missed. Treat them as close measurements and the official document as the authority.
This is information, not legal or tax advice. Qanoon Digest is independent and not affiliated with the Federal Board of Revenue or the Government of Pakistan.
The full text of this document
Reproduced from the source PDF as printed.
Tables are not shown here. The source prints tables (such as rate schedules or forms) that are left out of the text below. Use the official PDF for them.
اظہارِ دستبرداری
غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات، فروخت اور مصارف کے رضا کارانہ اعلان کی بابت انتظام کرنے کا آرڈیننس
2019ء
کا اُردو ترجمہ عوام کی سہولت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اِس کا کسی جگہ حوالہ نہیں دیا جاسکتا اور ایف بی آر کے انگریزی متن کو حتمی تصور کیا جائے گا۔
حکومتِ پاکستان
وزارتِ قانون وانصاف
نمبر ایف۔۲(۱)/۲۰۱۹ء۔پبلیکیشن اسلام آباد، مورخہ ۱۵ مئی، ۲۰۱۹ء
آرڈیننس نمبر ۳ مجریہ ۲۰۱۹ء
نمبر ایف۔۲(۱)/۲۰۱۹ء۔پبلیکیشن۔صدر مملکت نے ۱۴ مئی، ۲۰۱۹ء کو حسبِ ذیل آرڈیننس کو مشتہر کیا جسے معلومات عامہ کے لئے بذریعہ ہذا شائع کیا گیا ہے:۔
غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات، فروخت اور مصارف کے رضا کارانہ اعلان کی بابت انتظام کرنے کا آرڈیننس
ہر گاہ کہ اطلاعات کے مطابق اثاثہ جات، فروخت اور مصارف کا عدم اعلان وسیع پیمانہ پر ہے؛
اور چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں ظاہر ہونے والی اغراض کے لیے مذکورہ اثاثہ جات، فروخت اور مصارف کے اعلان کے لیے احکامات وضع کیئے جائیں؛
اور چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ—
(الف) نظام محصول بندی میں غیر دستاویزی معیشت کو شمولیت کی اجازت دی جائے؛ اور
(ب) ٹیکس ادائیگی پر مبنی معیشت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے معاشی بحالی اور نمو کے مقصد کو پورا کیا جائے؛
اور چونکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس نہیں ہو رہے ہیں اور صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اطمینان حاصل ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بناء پر فوری کارروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے؛
لہٰذا، اب، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل ۸۹ کی شق (۱) کی رُو حاصل شدہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے، صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اور جاری کیا ہے:۔
۱۔ مختصر عنوان، وسعت اور آغازِ نفاذ:۔ (۱) یہ آرڈیننس اعلان اثاثہ جات آرڈیننس، ۲۰۱۹ء کے نام سے موسوم ہو گا۔
(۲) یہ کُل پاکستان پر وسعت پذیر ہو گا۔
(۳) یہ فی الفور نافذ العمل ہو گا۔
۲۔ تعریفات:۔ (۱) اس آرڈیننس میں، تاوقتیکہ کوئی امر موضوع یا سیاق وسباق کے منافی نہ ہو،—
(الف) ’‘اثاثہ جات’’ سے ہر قسم کے تمام ملکی اور غیر ملکی اثاثہ جات مراد ہیں؛
(ب) ’‘بورڈ’’ سے وہی مفہوم لیا جائے گا جیسا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس، ۲۰۰۱ء (نمبر ۴۹ مجریہ ۲۰۰۱ء) کی دفعہ ۲ کی شق (۸) میں وضاحت کی گئی ہے؛
(ج) ’‘عدالت قانون’’ سے عدالت عالیہ یا عدالت عظمیٰ پاکستان مراد ہے؛
(د) ’‘اعلان کنندہ’’ سے دفعہ ۵ کے تحت اعلان کرنے والا شخص مراد ہے؛
(ہ) ’‘سرکاری عہدیدار’’ سے کوئی شخص، جیسا کہ ملکی اثاثہ جات کے رضاکارانہ اعلان کے ایکٹ، ۲۰۱۸ء میں وضاحت کی گئی ہے یا اس کا بے نامی دار جیسا کہ بے نامی ٹرانزیکشنز (ممانعت) ایکٹ، ۲۰۱۷ء (نمبر ۵ بابت ۲۰۱۷ء) میں وضاحت کی گئی ہے یا اس کی زوج اور زیر کفالت بچے مراد ہیں؛
(و) ’‘غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات’’ میں بے نامی اثاثہ جات شامل ہیں جیسا کہ بے نامی ٹرانزیکشنز (ممانعت) ایکٹ، ۲۰۱۷ء (نمبر ۵ بابت ۲۰۱۷ء) میں وضاحت کی گئی ہے اور کوئی بھی اثاثہ جات جس کی مالیت کی عدم اطلاع ہو، زیر اطلاع ہو یا گھٹا کر پیش کی گئی ہو؛
(ز) ’‘غیر ظاہر شدہ مصارف’’ سے محصول سال ۲۰۱۸ء تک انکم ٹیکس آرڈیننس، ۲۰۰۱ء (نمبر ۴۹ مجریہ ۲۰۰۱ء) کے احکامات کے تحت کوئی بھی غیر واضح یا غیر حسابی مصارف مراد ہیں، جن کا اعلان آمدنی کے گوشوارے میں نہ کیا گیا ہو یا جن کی
بابت آمدنی کا گوشوارہ داخل نہ کروایا گیا ہو اور مذکورہ مصارف کا حساب نہ رکھا گیا ہو؛
(ح) ’‘غیر ظاہر شدہ فروخت’’ سے فروخت یا فراہمی رسد مراد ہے جو بالترتیب، محصول فروخت ایکٹ، ۱۹۹۰ء یا وفاقی ایکسائز ایکٹ، ۲۰۰۵ء کے تحت محصول فروخت یا محصول مصنوعات ملکی پر قابل بار ہو، جس کا اعلان نہ کیا گیا ہو یا ۳۰ر جون، ۲۰۱۸ء تک زیر اعلان ہو۔
(۲) تمام دیگر الفاظ اور عبارات جو استعمال کی گئیں لیکن اس آرڈیننس میں بیان نہیں کیا گیا تو ان کا وہی مفہوم ہو گا جو انکم ٹیکس آرڈیننس، ۲۰۰۱ء (نمبر ۴۹ مجریہ ۲۰۰۱ء)، محصول فروخت ایکٹ، ۱۹۹۰ء، وفاقی ایکسائز ایکٹ، ۲۰۰۵ء، بے نامی ٹرانزیکشنز (ممانعت) ایکٹ، ۲۰۱۷ء (نمبر ۵ بابت ۲۰۱۷ء) اور اس کے تحت وضع کردہ قواعد میں انہیں تفویض کیا گیا ہے۔
۳۔ غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات، فروخت اور مصارف کا اعلان۔ اس آرڈیننس کے احکامات کے تابع، کوئی بھی شخص، ۳۰ر جون کو یا اس سے قبل، حسب ذیل میں سے صرف کسی کی بابت اعلان کر سکتا ہے:۔
(الف) ۳۰ر جون، ۲۰۱۸ء سے قبل پاکستان میں اور بیرون ملک حاصل کردہ غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات؛
(ب) ۳۰ر جون، ۲۰۱۸ء تک وضع کردہ غیر ظاہر شدہ فروخت؛
(ج) ۳۰ر جون، ۲۰۱۸ء تک کئے گئے غیر ظاہر شدہ مصارف؛
(د) اعلان کی تاریخ پر یا اس سے قبل حاصل کردہ یا رکھے گئے بے نامی اثاثہ جات۔
تشریح:۔ یہ واضح کیا جاتا ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت فائدہ حسب ذیل کیلئے بھی میسر ہو گا، جہاں،—
(الف) کوئی بھی کارروائیاں جن کا آغاز ہو چکا ہے یا التواء میں ہوں یا جہاں انکم ٹیکس آرڈیننس، ۲۰۰۱ء (نمبر ۴۹ مجریہ ۲۰۰۱ء)، کے تحت کسی بھی آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہو جس کا تعلق غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات یا مصارف سے ہو ماسوائے جہاں معاملے کا حتمی طور پر فیصلہ کر لیا گیا ہو؛
(ب) کوئی بھی کارروائیاں جن کا آغاز ہو چکا ہو یا التواء میں ہوں یا سیلز ٹیکس ایکٹ، ۱۹۹۰ء یا وفاقی ایکسائز ایکٹ، ۲۰۰۵ء کے تحت تصفیہ کی گئی ہو جو کسی بھی غیر ظاہر شدہ فروخت یا فراہمی سے متعلق ہو ماسوائے جہاں معاملے کا حتمی طور پر فیصلہ کر لیا گیا ہو۔
۴۔ ٹیکس کی وصولی اور نادہندگی سرچارج۔ (۱) غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات پر اس آرڈیننس کے جدول میں مصرحہ شرحوں اور دفعہ ۵ میں درج شدہ مالیت کے مطابق ٹیکس اور نادہندگی سرچارج کی ادائیگی لاگو ہو گی۔
(۲) غیر ظاہر شدہ فروخت اور مصارف پر اس آرڈیننس کے جدول میں صراحت کردہ شرح کے حساب سے ٹیکس اور نادہندگی سرچارج کی ادائیگی لاگو ہو گی۔
۵۔ اثاثہ جات کی مالیت۔ اثاثہ جات کی مالیت،—
(الف) ملکی غیر منقولہ جائیداد کی صورت میں ایسی قیمت ہو گی جو کہ حسب ذیل سے کم نہیں ہو گی؛
(اوّل) انکم ٹیکس آرڈیننس، ۲۰۰۱ء (نمبر ۴۹ مجریہ ۲۰۰۱ء) کی دفعہ ۶۸ کی ذیلی دفعہ (۴) کے تحت مشتہر کردہ ایف بی آر کی مالیت کا ۱۵۰ فیصد؛
(دوم) ڈی سی کی مالیت کا ۱۵۰ فیصد، جہاں ایف بی آر کی مالیت کو مشتہر نہ کیا گیا ہو یا ایف بی آر کی مالیت ڈی سی کی مالیت سے کم ہو؛ یا
(سوم) زمین کے لئے انکم ٹیکس آرڈیننس، ۲۰۰۱ء (نمبر ۴۹ مجریہ ۲۰۰۱ء) کی دفعہ ۶۸ کی ذیلی دفعہ (۴) کے تحت مشتہر کردہ ایف بی آر کی مالیت کا ۱۵۰ فیصد اور تعمیر شدہ جائیداد کے لئے ڈی سی کی مالیت کا ۱۵۰ فیصد جہاں تعمیر شدہ جائیداد کے لئے ایف بی آر کی مالیت کو مشتہر نہ کیا گیا ہو۔
(ب) دیگر تمام اثاثہ جات کی صورت میں، ایسی قیمت ہو گی جس پر اثاثے عام طور پر اعلان کی تاریخ پر کھلی مارکیٹ سے خریدے جائیں گے لیکن کسی بھی صورت میں اثاثے کے حصول کی لاگت سے کم نہیں ہو گی:
مگر شرط یہ ہے کہ غیر ملکی اثاثہ جات کی صورت میں، منصفانہ بازاری قدر کا تعین تاریخ اعلان پر رائج شرح تبادلہ پر کیا جائے گا۔
تشریح۔ اس کی وضاحت حسب ذیل ہے—
(الف) اس صورت میں کہ کسی اعلان کنندہ نے انکم ٹیکس آرڈیننس، ۲۰۰۱ء کے تحت یا ملکی اثاثہ جات کا رضاکارانہ اعلان کے ایکٹ، ۲۰۱۸ء کے تحت کسی بھی غیر منقولہ جائیداد کی بابت پہلے ہی اعلان جمع کروا چکا ہو، اور مذکورہ غیر منقولہ جائیداد کی اعلان کردہ مالیت کو بڑھانے کی خواہش رکھتا ہو تو وہ اس آرڈیننس کے تحت دفعہ ۵ اور درج بالا شدہ مالیت کی اصطلاح میں اعلان داخل کر سکے گا؛
(ب) اس صورت میں کہ کوئی شخص انکم ٹیکس آرڈیننس، ۲۰۰۱ء کی دفعہ ۶۸ یا ملکی اثاثہ جات کا رضاکارانہ اعلان کے ایکٹ، ۲۰۱۸ء کے حوالے سے کسی بھی غیر منقولہ جائیداد کی بابت اعلان پہلے ہی داخل کرا چکا ہے تو اس کے خلاف اس آرڈیننس کے احکامات بالخصوص اس کی دفعہ ۵ کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید کوئی کارروائی یا کسی عمل کا آغاز نہیں کیا جائے گا۔
۶۔ ٹیکس کی ادائیگی کے لئے وقت۔ (۱) اس آرڈیننس کے تحت قابل وصول ٹیکس کی ادائیگی کے لئے واجب الادا تاریخ ۳۰ر جون، ۲۰۱۹ء کو یا اس سے قبل ہو گی:
مگر شرط یہ ہے کہ اس ذیلی دفعہ کے تحت واجب الادا تاریخ کے بعد ٹیکس اس آرڈیننس کے جدول کی شق (۲) میں دی گئی شرحوں کے مطابق نادہندگی سرچارج کے ساتھ ۳۰ر جون، ۲۰۲۰ء یا اس سے قبل قابل ادا ہو گا۔
(۲) پاکستان میں غیر ملکی اثاثہ جات یا غیر ملکی زر کی بابت ٹیکس بینک دولت پاکستان کی جانب سے دفعہ ۹ میں فراہم کردہ انداز اور طریقہ کار کے مطابق غیر ملکی زر میں ادا کیا جائے گا۔
(۳) اگر کوئی شخص اس دفعہ کے مطابق ٹیکس اور نادہندگی سرچارج ادا کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو وضع کردہ اعلان منسوخ ہو گا اور اس آرڈیننس کے تحت کبھی بھی وضع نہ کیا گیا متصور ہو گا۔
(۴) دفعہ ۱۱ کی شق (ز) کے احکامات کے باوصف، اعلان کے داخل کرنے کے بقایا جات کی طلبی کی صورت میں اعلان کنندہ سیلز ٹیکس ایکٹ، ۱۹۹۰ء یا انکم ٹیکس آرڈیننس، ۲۰۰۱ء (نمبر ۴۹ مجریہ ۲۰۰۱ء)، یا وفاقی ایکسائز ایکٹ، ۲۰۰۵ء کے تحت، افسران لینڈ ریونیو کی جانب سے متعین کردہ مذکورہ ٹیکس کی رقم بلا نادہندگی سرچارج اور جرمانے کے ادا کرے گا۔
۷۔ کتب کے حساب میں اندراج۔ (۱) جہاں کوئی اعلان کنندہ دفعہ ۶ کے تحت غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات فروخت اور مصارف کی بابت ٹیکس ادا کر چکا ہو تو اعلان کنندہ مذکورہ اثاثہ جات، فروخت یا مصارف کو اپنے کیفیت نامہ دولت یا مالیاتی کیفیت نامہ کے گوشوارے میں اندراج کا حقدار ہو گا قطع نظر اس حقیقت سے کہ اثاثہ، فروخت یا مصارف اس سال سے متعلقہ ہیں جو آمدن یا دولت کے کیفیت نامہ جیسی بھی صورت ہو، کی نظر ثانی کی غرض سے خارج المیعاد ہو چکے ہیں۔
(۲) فی الوقت نافذ العمل کسی بھی قانون کے تحت کوئی بھی الاؤنس، قرض یا کٹوتی اس طرح اندراج کردہ اثاثہ جات کے لیے دستیاب نہیں ہو گی۔
۸۔ شرائط اعلان:۔ وضع کردہ اعلان جائز ہو گا، اگر—
(الف) اعلان کنندہ کی جانب سے رکھی گئی نقد رقم بینک کے کھاتے میں بوقت اعلان مصرحہ طریقہ کار میں جمع کی جائے گی اور مذکورہ بینک کے کھاتے میں ۳۰ر جون، ۲۰۱۹ء تک رکھی جائے گی؛ یا
(ب) پاکستان میں رکھا گیا غیر ملکی زر جس کا دفعہ ۳ کے تحت اعلان کنندہ کے اپنے غیر ملکی زر کے کھاتے میں جمع کیا گیا ہو اعلان کے وقت اور مذکورہ کھاتے میں ۳۰ر جون، ۲۰۱۹ء تک رکھا گیا ہو؛ اور
(ج) واپس آنے والے بیرونی سیال اثاثہ جات کو اعلان کنندہ اپنے پاک روپیہ اکاؤنٹ یا پاکستان میں غیر ملکی کرنسی بینک اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے یا پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹس یا وفاقی حکومت کی جانب سے اجراء کردہ کسی غیر ملکی کرنسی والے بانڈ میں سرمایہ کاری کی جائے؛ یا
(د) پاکستان واپس نہ آنے والے بیرونی سیال اثاثہ جات کو ۳۰ر جون، ۲۰۱۹ء کو یا اس سے قبل اعلان کنندہ کے بیرونی بینک اکاؤنٹ میں جمع کر دیا جائے گا۔
۹۔ پاکستان سے باہر رکھے گئے اثاثہ جات کی ملک واپسی کا طریقہ کار اور ہر طور اور ان پر ٹیکس کی ادائیگی:۔ بینک دولت پاکستان طریقہ کار وانداز کو مشتہر کرے گا؛—
(الف) اثاثہ جات کی پاکستان واپسی؛
(ب) بینک دولت پاکستان کے ذریعے غیر ملکی کرنسی میں ٹیکس ادائیگی؛ اور
(ج) پاکستان سے باہر رکھے گئے اثاثہ جات کی مالیت کی پاکستانی روپے میں منتقلی کا طریقہ۔
۱۰۔ اداہ شدہ ٹیکس قابل واپسی نہ ہو گا:۔ آرڈیننس ہذا کے احکامات کے تحت اداہ شدہ ٹیکس کی رقم یا نادہندگی سرچارج قابل واپسی نہ ہو گا۔
۱۱۔ آرڈیننس کا اطلاق مخصوص اشخاص، اثاثہ جات اور عدالتی کارروائیوں پر نہ ہو گا:۔ آرڈیننس ہذا کے احکامات حسب ذیل پر لاگو نہیں ہوں گے،—
(الف) سرکاری عہدیداران پر؛
(ب) انکم ٹیکس آرڈیننس، ۲۰۰۱ء کی دفعہ ۲ کی شق (۴۷) کے تحت وضاحت کردہ کمپنی عامہ پر؛
(ج) ایسی آمدن یا اثاثہ جات پر جو مجرمانہ جرم کے ارتکاب میں ملوث ہوں یا ان سے حاصل کئے گئے ہوں؛
(د) سونے اور قیمتی پتھروں پر؛
(ہ) پرائز بانڈز رکھنے والوں پر؛
(و) تمسکات، حصص، سرٹیفیکیٹس یا بانڈز رکھنے والوں یا کوئی بھی دیگر اثاثہ جات رکھنے والوں پر؛ یا
(ز) کسی بھی عدالت قانون میں زیر سماعت کارروائیوں پر؛
۱۲۔ اقرار نامہ بطور ثبوت قابل ادخال نہیں:۔ فی الوقت نافذ العمل کسی بھی دیگر
قانون میں شامل کسی امر کے باوصف، جو اس آرڈیننس کے تحت کسی بھی اقرار نامہ میں شامل کوئی بھی شئے، کسی بھی عدالتی کارروائیوں کی اغراض کے لئے جو جرمانہ عائد کرنے یا سخت کارروائی یا کسی بھی قانون کے تحت کارروائیوں کی اغراض سے متعلق ہو، اعلان کنندہ کے خلاف بطور شہادت قابل قبول نہ ہو گی۔
۱۳۔ غلط بیانی:۔ آرڈیننس ہذا میں شامل کسی امر کے باوصف، جہاں کوئی اعلان غلط بیانی کے ذریعے سے یا حقائق کو دبانے کے لئے وضع کیا گیا ہو تو، مذکورہ اعلان باطل ہو گا اور اس آرڈیننس کے تحت وضع کردہ تصور نہیں کیا جائے گا۔
۱۴۔ راز داری:۔ (۱) انکم ٹیکس آرڈیننس، ۲۰۰۱ء (نمبر ۴۹ مجریہ ۲۰۰۱ء) کی دفعہ ۲۱۶ کی ذیلی دفعہ (۳) کے احکامات کے باوجود، فی الوقت نافذ العمل کسی بھی دیگر قانون اور معلومات تک حق رسائی ایکٹ، ۲۰۱۷ء (نمبر ۳۴) کے تحت، ماسوائے انکم ٹیکس آرڈیننس، ۲۰۰۱ء (نمبر ۴۹ مجریہ ۲۰۰۱ء) کی دفعہ ۲۱۶ کی ذیلی دفعہ (۳) کی شق (الف) اور (ز) کے احکامات کے، اس آرڈیننس کے تحت اعلان کرنے والے کسی بھی شخص کی تفصیلات یا آرڈیننس کے تحت وضع کردہ کسی بھی اعلان میں وصول کردہ کسی بھی معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا۔
۱۵۔ قوانین وضع کرنے کا اختیار:۔ آرڈیننس ہذا کے اغراض کی بجا آوری کے لئے سرکاری جریدے میں اعلامیہ کے ذریعے بورڈ قوانین وضع کر سکے گا جس میں طریقہ کار، ضابطہ، ٹیکس کی ادائیگی اور شرائط شامل ہیں، جس کے تابع اس آرڈیننس کے تحت اعلان داخل کروایا جائے گا۔
۱۶۔ آرڈیننس دیگر قوانین پر غالب ہو گا:۔ اس آرڈیننس کے احکامات فی الوقت نافذ العمل کسی بھی دیگر قانون میں شامل کسی امر کے برعکس ہونے کے باوجود موثر ہوں گے۔
۱۷۔ ازالۂ مشکلات:۔ اگر اس آرڈیننس کے احکامات کو مؤثر بنانے میں کوئی مشکل درپیش ہو تو، وفاقی حکومت، سرکاری جریدے میں اعلامیہ کے ذریعے، مذکورہ مشکل کا خاتمہ کر سکے گی جو آرڈیننس ہذا کے احکامات سے متناقض ہے۔
جدول (دیکھیئے دفعہ ۴) شرح ٹیکس
(۱) غیر ظاہری اثاثہ جات، فروخت اور مصارف پر عائد کردہ شرح ٹیکس حسب ذیل ہو گا جیسا کہ حسب ذیل فہرست میں مصرحہ ہے، یعنیٰ۔
فہرست
شرح نادہندگی سرچارج
(۲) جدول کی شق (۱) کے تحت ٹیکس کی رقم میں نادہندگی سرچارج کا اضافہ ہو گا فیصدی مالیت کی تخصیص حسب ذیل فہرست میں کی گئی ہے، یعنی:۔
فہرست
ڈاکٹر عارف علوی صدر
جسٹس (ریٹائرڈ) عبدالشکور پراچہ سیکرٹری